جب خزاں آئے تو پتے نا ثمر بچتا ہے خالی جھولی لیے شجر بچتا ہے۔ اے نقتہ چیں شوق سے دن رات میرے عیب نکال کیونکہ جب عیب نکل جائے ہنر بچتا ہے۔ عشق وہ علم ریاضی کہ جس میں فارس دو سے ایک نکالے تو صفر بچتا ہے۔
No comments:
Post a Comment
Thanks and response you soon